بنگلورو،30؍اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کرناٹک کے بی جے پی لیڈر اورکرناٹک اسمبلی میں قائد اپوزیشن ،سابق وزیراعلی جگدیش شٹر نے موجودہ وزیراعلی سدرامیا سے سوال کیا ہے ، وہ بتائیں کہ کرناٹک میں کتنے کانگریسی قائیدین نے دلت لڑکیوں سے شادیاں کی ہیں ۔ گلبرگہ میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر سدرامیا نے مشورہ دیا ہے کہ بی جے پی قائدین دلت لڑکیوں کو اپنی بہو بیٹیاں بنالیں ۔ انھوں نے نامہ نگاروں سے دریافت کیا کہ کیا سدرامیا نے کسی دلت لڑکی کو اپنی بہو بنایا ہے؟۔ ڈی کے گنپتی کے خود کشی معاملہ کاحوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سی آئی ڈی آفیسر س وزیر کے جے جارج کے ساتھ مل کر مقدمہ کو ختم کردینا چاہتے ہیں ۔ لہٰذا جارج کو فوری طور پر اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجانا چاہئے ۔
شیٹار نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران سدرامیا نے کوئی نمایاں خدمات انجام نہیں دی ہیں ۔ وہ صرف مختلف معاملات میں ملوث افراد کو بچانے میں ہی مصروف رہے۔ سدرامیا نے علیحدہ ریاستی جھنڈے کے مطالبہ کے بشمول کئی ایک اختلافی امور شروع کئے ہیں ۔ جگدیش شٹرنے کہا کہ ریاستی اینٹی کرپشن بیورو مکمل طور پر چیف منسٹر سدرامیا کے کنٹرول میں ہے اور وہ بی جے پی قائیدین کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ انکم ٹیکس نے وزیر ڈی کے شیو کمار کے دفاتر پر اور گھر پر بے نامی جائیدادیں رکھنے کے الزام میں دھاوے بولے تھے ۔ مرکزی حکومت کا ان دھاوؤں سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ سدرامیا پر مسٹر جگدیش شٹر نے الزام عائد کیا کہ انھوں نے خواہ مخواہ ریاست میں لنگایت مذہب اور ویر شیو مذہب کا شوشہ چھوڑا ہے، تاکہ اس طرح سوسائٹی میں پھوٹ ڈال سکیں ۔ چیف منسٹر کے پاس لنگایتوں کا ایک علیحدہ مذہب قائم کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ اس معاملہ پر لنگایتوں کے مٹھوں کے مختلف سربراہان سے تبادلہ خیال کیا جائیگا۔